Famous Allama Iqbal poetry in Urdu

Famous Allama Iqbal poetry in Urdu

Famous Allama Iqbal poetry in Urdu, the best and evergreen poetry of Allama Iqbal. Scroll down to find different poems and ghazals of Allama Iqbal.

تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

 

ستم ہو کہ ہو وعدہٴ بے حجابی

کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں

 

یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو

کی میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں

 

زرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا

وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں

 

کوئی دم کا مہمان ہوں اے اہلِ محفل

چراغِ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں

 

بھری بزم میں راز کی بات کہ دی

بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

===========================================================

Famous Allama Iqbal poetry in Urdu

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

 

تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں

یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں

 

قناعت نہ کر آلم رنگ و بو پر

چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں

 

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم

مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں

 

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیں

 

اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا

کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

 

گئے دن کی تنہا تھا میں انجمن میں

یہاں اب میرے رازدان اور بھی ہیں

================================================================

Famous Allama Iqbal poetry in Urdu

 

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبینِ نیاز میں

 

طرب آشناِ خروش ہو تو نوا ہے محرمِ گوش ہو

وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوتِ پردہِ ساز میں

 

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ

کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

 

دمِ توف کرمکِ شمع نے یہ کہا کہ وہ اثرِ کوہن

نہ تیری حکایتِ سوز میں نہ مری حدیثِ گداز میں

 

نہ کہیں جہاں میں آماں ملی جو آماں ملی تو کہاں ملی

میرے جرمِ خانہ خراب کو تیرے عفوِ بندہ نواز میں

 

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں

نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہیں نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں

 

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا

تیرا دل تو ہے سنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

=======================================================

 

خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے

 

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

 

مقامِ گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوں

یہی سوزِ نفس ہے، اور میری کیمیا کیا ہے

 

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں

نہ پوچھ اے ہم نشین، مجھ سے وہ چشمِ سرماسا کیا ہے

 

اگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میں

تو اقبال اُس کو سمجھاتا، مقامِ کبریا کیا ہے

 

نوائے صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا

خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے

Find More Urdu and Pashto Shayari


Romantic Poems


This is the collection of Sad Shayari in Urdu. You can find more content that is full of love, romance, grief, and sorrow.

Leave a ReplyCancel reply